• August 9, 2020

عرب امارت نے خون خوار اشتہاری کو ہالینڈ کے حوالے کردیا

ابوظہبی(ہم صفیر نیوز)متحدہ عرب امارات کے حکام نے ایک خون خوار گروپ موت کا فرشتہ کے سربراہ رضوان تاغی کو ہالینڈ کے حوالے کردیا ہے۔تاغی کو انتہائی خطرناک دہشت گرد سمجھا جاتا ہے اور اس پر کئی افراد کے قتل کا الزام ہے۔ رضوان تاغی کو کئی سال قبل انٹرپول کی مدد سے تلاش کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا مگر وہ مسلسل مفرور رہا ہے۔ حال ہی میں وہ دبئی میں جعلی شناختی معلومات کے ذریعے داخل ہوا اور ایک فلیٹ میں چھپ گیا۔ دبئی پولیس نے اسے پانچ دن کے اندر اندر ڈھونڈ نکالا۔ دبئی پولیس کی کارکردگی پر مجرم بھی حیران اور شش در رہ گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ رضوان تاغی کو بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق ہالینڈ کے حوالے کیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تاغی کی حوالگی انٹرپول کی مدد سے عمل میں لائی گئی۔تاغی کو سخت سیکیورٹی میں ایک ہوائی جہاز میں منتقل کیا گیا۔ اسے فول پروف سیکیورٹی والی جیل میں رکھا گیا ہے۔ رضوان تاغی کو یورپ میں انتہائی خطرناک شخص سمجھا جاتا ہے اور وہ قاتل مشین کے نام سے مشہور ہے۔اخباری ذرائع کے مطابق تاغی اور اس کے معاون سعید الرزوقی پر ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا۔ ان پر پانچ افراد کے قتل کا الزم عاید کیا جاتا ہے۔ ٹرائل جلد ہی دوبارہ شروع کیا جائے گا۔تاغی کی گرفتاری سے قبل اس کے وکیل جو وعدہ معاف گواہ کے طورپر کیس میں معاونت کو تیار تھے کو تاغی کے مافیا گروپ نے قتل کردیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اس گروپ کے خلاف عالمی رائے عامہ مزید سخت ہوگئی تھی اور اس کے خلاف عالمی سطح پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ موت کا فرشتہ نامی شدت پسند گروپ کا سربراہ 2016ء کو ہالینڈ کے اصلی پاسپورٹ پرجعلی نام کے ساتھ داخل ہوا۔ وہ کافی چند روز تک دبئی میں روپوش رہا۔ اس کی تمام ضروریات اس کے دو معاونین پوری کرتے۔ وہ ایک ایشیائی خاتون کے ہمراہ ایک فلیٹ میں مقیم تھا جہاں اسے حراست میں لیا گیا۔مجرم کی نشاندہی کے بعد انسداد جرائم پولیس نے چھاپہ مارا اور اسے گرفتار کرلیا تھا۔دبئی پولیس کے ایک سینئر عہدیدار بریگیڈیئر جمال الجلاف نے بتایا کہ جب پولیس نے چھاپہ مار کارروائی کے دوران عالمی اشتہاری اور انٹروپول کو مطلوب رضوان تاغی کو گرفتار کیا تو وہ سخت صدمے سے دوچار ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ مجرم کی گرفتاری کے لیے پانچ دن مسلسل تلاش کی گئی۔ مجرم 10 سال سے مسلسل عدالت سے مفرور تھا اور عالمی پولیس اور انٹیلی جنس ادارے اور اس کی تلاش جاری رکھے ہوئے تھے۔اس نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے دبئی پولیس کی کارکردگی کی تعریف بھی کی اور کہا کہ مجھے کئی سال تک کسی ملک کی پولیس گرفتار نہیں کرسکی۔ میں حیران ہوں کہ دبئی پولیس نے مجھے ملک میں داخل ہونے کے صرف پانچ دن کے اندر گرفتار کرلیا

Read Previous

انسانی حقوق کی صورت حال پر امریکی رپورٹ، شمالی کوریا کا انتباہ

Read Next

مسجد قبا دنیا بھر کے زائرین کی توجہ کا مرکز بن گئی